Breaking

Saturday, 20 May 2017

ڈان اخبار نے دو دن پہلے سی پیک یا اوبور کے حوالے ایک آرٹیکل شائع کیا جس کو اس نے اصل منصوبے کا بلو پرنٹ قرار دیا۔





اس آرٹیکل کا خلاصہ یہ ہے کہ سی پیک آنے والے دنوں میں پاکستان کے گلے میں اٹک جائیگا۔ انڈسٹریز اور زراعت چین کی
ہونگی، لیبر بھی چین کی اور منافع بھی چین کو ہی ملے گا۔ اور تو اور چین بڑی طاقت سے اپنا کلچر بھی ساتھ لائیگا!
یہاں چند نقاط سمجھنے کے ہیں۔
پہلی بات تو یہی کہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان اگریمنٹ کا بلو پرنٹ نہیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا چینی جائزہ ہے جس سے ظاہر ہے پاکستان کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ انہوں نے اسی طرح کا جائزہ بنانا تھا تاکہ ان کو اپنے بینکوں سے زیادہ سے زیادہ لون مل سکے۔
ااحسن اقبال کے مطابق ابھی اصل منصوبے پر دستخط نہیں ہوئے۔
پروپوزلز چین نہیں بلکہ پاکستان پیش کرے گا کہ چین پاکستان میں کہاں کہاں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
یہ بات تو طے شدہ ہے کہ چین بزنسمین ہے۔ وہ کوشش کرے گا کہ اس کو زیادہ سے زیادہ ملے۔ یہ مرحلہ ہوتا ہے جب ہماری سیاسی قیادت کی ڈیلینگ کرنے کی صلاحیت سامنے آئیگی۔ جو ویسے بھی پاکستان کے کامیاب ترین "بزنسمین" سمجھے جاتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھیں چین کے پاس گوادر کا متبادل موجود نہیں۔ اس لیے پاکستان اچھی شرائط پر معاہدہ کر سکتا ہے۔ چین دو سے ڈھائی ہزار ارب ڈالر سالانہ کی برآمدات کرتا ہے جبکہ پاکستان کی کل برآمدات 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ یعنی اگر وہ اپنی انڈسٹریز کا چند فیصد بھی پاکستان لاتا ہے اور ہم اچھی شراط پر معاہدہ کر لیتے ہیں تو پاکستان کی برآمدات جمپ لگا کر تین چار گنا ہوجائینگی!
اب ذرا دوبارہ ڈان لیکس پر۔

بظاہر یہ فرمائشی پروگرام لگتا ہے کیونکہ ڈان اخبار پر حکومتی اثر رسوخ سے ہر پاکستانی واقف ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حکومتی اجازت اور مرضی کے بغیر ڈان نے یہ آرٹیکل چھاپاہو۔
ایسا کیوں کیا گیا؟
سیدھی سی بات ہے اگر آپ سی پیک کو متنازع بناتے ہیں تو آپ پاکستان دشمنوں کو خوش کر کے ان سے قیمت وصول کر سکتے ہیں اور چین کو بلیک میل کر کے کمیشن ۔۔۔
اس لیے واحد خطرہ ہی صرف یہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی لیڈر شپ اپنی ذاتی مفادات اور کمیشنز کے چکر میں اس سنہری موقع کو ضائع نہ کردے بدترین ڈیلنگ کر کے۔
اگر آپ کے ہاتھ میں سونا ہے اور آپ اسکو مٹی کے بھاؤ بیچ رہے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے نہ کہ خریدار کی!
تحریر شاہدخان

No comments:

Post a Comment

Comment here